کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: ذبح کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3173
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ سورة الأنعام آية 121 ، قَالَ : " كَانُوا يَقُولُونَ مَا ذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللَّهِ فَلَا تَأْكُلُوا ، وَمَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ " ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` وہ آیت کریمہ : «إن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» ( سورة الأنعام : 121 ) کی تفسیر میں کہتے ہیں : ان کی وحی یہ تھی کہ جس ( ذبیحہ ) پر اللہ کا نام لیا جائے اس کو مت کھاؤ ، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے کھاؤ ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا : «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان سے گوشت لے لینا جائز ہے، اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں کیونکہ مسلمان کی ظاہری حالت امید دلاتی ہے کہ اس نے اللہ تعالی کا نام ضرور لیا ہو گا، البتہ مشرک سے گوشت لینا جائز نہیں جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے، اگر دیکھے نہیں لیکن مشرک یہ کہے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے تو اس کا لینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مردار ہے «منخنقہ» وغیرہ ورنہ ہرگز جائز نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الذبائح / حدیث: 3173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (2818), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأضاحي 13 ( 2818 ) ، ( تحفة الأشراف : 6111 ) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الضحایا 40 ( 4448 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3174
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ : أَنَّ قَوْمًا قَالُوا : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ ، لَا نَدْرِي ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا ، قَالَ : " سَمُّوا أَنْتُمْ وَكُلُوا " ، وَكَانُوا حَدِيثَ عَهْدٍ بِالْكُفْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` کچھ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت ( بیچنے کے لیے ) لاتے ہیں ، اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں ؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم بسم اللہ کہہ کر کھاؤ “ اور وہ لوگ ( ابھی ) نو مسلم تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الذبائح / حدیث: 3174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17027 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع 5 ( 2057 ) ، الصید 21 ( 5507 ) ، التوحید 13 ( 7398 ) ، صحیح مسلم/الأضاحي 5 ( 1971 ) ، سنن ابی داود/الأضاحي 19 ( 2829 ) ، سنن النسائی/الضحایا 38 ( 4441 ) ، موطا امام مالک/الذبائح 1 ( 1 ) ، سنن الدارمی/الأضاحي 14 ( 2019 ) ( صحیح ) »