مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جنازے پر نماز کا مشروع ہونا۔
حدیث نمبر: Q1322
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ ؟ وَقَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ وَقَالَ : صَلُّوا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَمَّاهَا صَلَاةً لَيْسَ فِيهَا رُكُوعٌ , وَلَا سُجُودٌ , وَلَا يُتَكَلَّمُ فِيهَا , وَفِيهَا تَكْبِيرٌ , وَتَسْلِيمٌ , وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يُصَلِّي إِلَّا طَاهِرًا , وَلَا يُصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ , وَلَا غُرُوبِهَا , وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ , وَقَالَ الْحَسَنُ : أَدْرَكْتُ النَّاسَ , وَأَحَقُّهُمْ بِالصَّلَاةِ عَلَى جَنَائِزِهِمْ مَنْ رَضَوْهُمْ لِفَرَائِضِهِمْ , وَإِذَا أَحْدَثَ يَوْمَ الْعِيدِ أَوْ عِنْدَ الْجَنَازَةِ يَطْلُبُ الْمَاءَ , وَلَا يَتَيَمَّمُ , وَإِذَا انْتَهَى إِلَى الْجَنَازَةِ وَهُمْ يُصَلُّونَ يَدْخُلُ مَعَهمْ بِتَكْبِيرَةٍ , وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : يُكَبِّرُ بِاللَّيْلِ , وَالنَّهَارِ , وَالسَّفَرِ , وَالْحَضَرِ أَرْبَعًا , وَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : التَّكْبِيرَةُ الْوَاحِدَةُ اسْتِفْتَاحُ الصَّلَاةِ , وَقَالَ : وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَفِيهِ صُفُوفٌ وَإِمَامٌ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے پر نماز پڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تم اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نجاشی پر نماز پڑھو ۔ اس کو نماز کہا اس میں نہ رکوع ہے نہ سجدہ اور نہ اس میں بات کی جا سکتی ہے اور اس میں تکبیر ہے اور سلام ہے ۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازے کی نماز نہ پڑھتے جب تک باوضو نہ ہوتے اور سورج نکلنے اور ڈوبنے کے وقت نہ پڑھتے اور جنازے کی نماز میں رفع یدین کرتے اور امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے بہت سے صحابہ اور تابعین کو پایا وہ جنازے کی نماز میں امامت کا زیادہ حقدار اسی کو جانتے جس کو فرض نماز میں امامت کا زیادہ حقدار سمجھتے اور جب عید کے دن یا جنازے پر وضو نہ ہو تو پانی ڈھونڈھے ‘ تیمم نہ کرے اور جب جنازے پر اس وقت پہنچے کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوں تو اللہ اکبر کہہ کر شریک ہو جائے ۔ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا رات ہو یا دن ‘ سفر ہو یا حضر جنازے میں چار تکبیریں کہے ۔ اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا پہلی تکبیر جنازے کی نماز شروع کرنے کی ہے اور اللہ جل جلالہ نے ( سورۃ التوبہ میں ) فرمایا ان منافقوں میں جب کوئی مر جائے تو ان پر کبھی نماز نہ پڑھیو ۔ اور اس میں صفیں ہیں اور امام ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: Q1322
حدیث نمبر: 1322
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ : فَأَمَّنَا فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ , فَقُلْنَا : يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ ؟ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے شیبانی نے اور ان سے شعبی نے بیان کیا کہ` مجھے اس صحابی نے خبر دی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر پر سے گزرا ۔ وہ کہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت کی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں ۔ ہم نے پوچھا کہ ابوعمرو ( یہ شعبی کی کنیت ہے ) یہ آپ سے بیان کرنے والے کون صحابی ہیں ؟ فرمایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1322
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔