مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جنازے کو جلد لے چلنا۔
حدیث نمبر: Q1315
وَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنْتُمْ مُشَيِّعُونَ وَامْشِ بَيْنَ يَدَيْهَا وَخَلْفَهَا وَعَنْ يَمِينِهَا وَعَنْ شِمَالِهَا , وَقَالَ غَيْرُهُ : قَرِيبًا مِنْهَا .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جنازے کو پہنچا دینے والے ہو تم اس کے سامنے بھی چل سکتے ہو پیچھے بھی ‘ دائیں بھی اور بائیں بھی ‘ سب طرف چل سکتے ہو اور انس رضی اللہ عنہ کے سوا اور لوگوں نے کہا جنازے کے قریب چلنا چاہیے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: Q1315
حدیث نمبر: 1315
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ : حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے زہری سے سن کر یہ حدیث یاد کی ‘ انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کر رہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1315
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔