مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں۔
حدیث نمبر: Q1303
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ .
مولانا داود راز
´ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ` ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) آنکھ آنسو بہاتی ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: Q1303
حدیث نمبر: 1303
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا قُرَيْشٌ هُوَ ابْنُ حَيَّانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَال : " دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ ، وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ ، فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ , فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ : يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ " ، رَوَاهُ مُوسَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ المُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے قریش نے جو حیان کے بیٹے ہیں ، نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف لوہار کے یہاں گئے ۔ یہ ابراہیم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ ) کو دودھ پلانے والی انا کے خاوند تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا اور پیار کیا اور سونگھا ۔ پھر اس کے بعد ہم ان کے یہاں پھر گئے ۔ دیکھا کہ اس وقت ابراہیم رضی اللہ عنہ دم توڑ رہے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں ۔ تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ یا رسول اللہ ! اور آپ بھی لوگوں کی طرح بے صبری کرنے لگے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ ابن عوف ! یہ بے صبری نہیں یہ تو رحمت ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ روئے اور فرمایا ۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم ! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۔ اسی حدیث کو موسیٰ بن اسماعیل نے سلیمان بن مغیرہ سے ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1303
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔