مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بیان میں کہ کیا عورت میت کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے جائیں؟
حدیث نمبر: 1262
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " ضَفَرْنَا شَعَرَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تَعْنِي ثَلَاثَةَ قُرُونٍ " ، وَقَالَ وَكِيعٌ : قَالَ سُفْيَانُ : نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا .
مولانا داود راز
´ہم سے قبیصہ نے حدیث بیان کی ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ام ہذیل نے اور ان سے ام عطیہ نے ، انہوں نے کہا کہ` ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کے بال گوندھ کر ان کی تین چٹیاں کر دیں اور وکیع نے سفیان سے یوں روایت کیا ، ایک پیشانی کی طرف کے بالوں کی چٹیا اور دو ادھر ادھر کے بالوں کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1262
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔