مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: میت پر کپڑا کیونکر لپیٹنا چاہیے۔
حدیث نمبر: Q1261
وَقَالَ الْحَسَنُ : الْخِرْقَةُ الْخَامِسَةُ تَشُدُّ بِهَا الْفَخِذَيْنِ وَالْوَرِكَيْنِ تَحْتَ الدِّرْعِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عورت کے لیے ایک پانچواں کپڑا چاہیے جس سے قمیص کے تلے رانیں اور سرین باندھی جائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: Q1261
حدیث نمبر: 1261
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ , قَال : سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ , يَقُولُ : جَاءَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنَ اللَّاتِي بَايَعْنَ قَدِمَتِ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ ، فَحَدَّثَتْنَا , قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي , قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ , فَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ ، وَزَعَمَ أَنَّ الْإِشْعَارَ الْفُفْنَهَا فِيهِ ، وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ وَلَا تُؤْزَرَ .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، انہیں ایوب نے خبر دی ، کہا کہ میں نے ابن سیرین سے سنا ، انہوں نے کہا کہ` ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں انصار کی ان خواتین میں سے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ، ایک عورت آئی ، بصرہ میں انہیں اپنے ایک بیٹے کی تلاش تھی ۔ لیکن وہ نہ ملا ۔ پھر اس نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو ۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہونا چاہیے اور آخر میں کافور بھی استعمال کر لینا ۔ غسل سے فارغ ہو کر مجھے خبر کرا دینا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غسل دے چکیں ( تو اطلاع دی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار عنایت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بدن سے لپیٹ دو ۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا ۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں ( یہ ایوب نے کہا ) اور انہوں نے بتایا کہ «إشعار» کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے ۔ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے ازار کے طور پر نہ باندھا جائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1261
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔