مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: میت عورت ہو تو غسل کے وقت اس کے بال کھولنا۔
حدیث نمبر: Q1260
وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لَا بَأْسَ أَنْ يُنْقَضَ شَعَرُ الْمَيِّتِ .
مولانا داود راز
´اور ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ` میت ( عورت ) کے سر کے بال کھولنے میں کوئی حرج نہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: Q1260
حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَيُّوبُ : وَسَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ , قَالَتْ : حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ نَقَضْنَهُ ، ثُمَّ غَسَلْنَهُ ، ثُمَّ جَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا انہیں ابن جریج نے خبر دی ، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ میں نے حفصہ بنت سیرین سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے بیان کیا کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کو تین لٹوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔ پہلے بال کھولے گئے پھر انہیں دھو کر ان کی تین چٹیاں کر دی گئیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1260
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔