مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: میت کو طاق مرتبہ غسل دینا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 1254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ , فَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے محمد نے ، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دو یا اس سے بھی زیادہ ، پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور بھی استعمال کرنا ۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دے دینا ۔ جب ہم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ یہ اندر اس کے بدن پر لپیٹ دو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1254
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: Q1255
فَقَالَ أَيُّوبُ : وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ ، وَكَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا وَكَانَ فِيهِ ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ سَبْعًا ، وَكَانَ فِيهِ , أَنَّهُ قَالَ : ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا " ، وَكَانَ فِيهِ أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ : وَمَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ایوب نے کہا کہ مجھ سے حفصہ نے بھی محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح بیان کیا تھا ۔ حفصہ کی حدیث میں تھا کہ طاق مرتبہ غسل دینا اور اس میں یہ تفصیل تھی کہ تین یا پانچ یا سات مرتبہ ( غسل دینا ) اور اس میں یہ بھی بیان تھا کہ میت کے دائیں طرف سے اعضاء وضو سے غسل شروع کیا جائے ۔ یہ بھی اسی حدیث میں تھا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے کنگھی کر کے ان کے بالوں کو تین لٹوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: Q1255

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔