مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا اور وضو کرانا۔
حدیث نمبر: Q1253
وَحَنَّطَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ابْنًا لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَحَمَلَهُ وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الْمُسْلِمُ لَا يَنْجُسُ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا , وَقَالَ سَعِيدٌ لَوْ كَانَ نَجِسًا مَا مَسِسْتُهُ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ لَا يَنْجُسُ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے بچے ( عبدالرحمٰن ) کے خوشبو لگائی پھر اس کی نعش اٹھا کر لے گئے اور نماز پڑھی ، پھر وضو نہیں کیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا ، زندہ ہو یا مردہ ، سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر ( سعید بن زید رضی اللہ عنہ ) کی نعش نجس ہوتی تو میں اسے چھوتا ہی نہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مومن ناپاک نہیں ہوتا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: Q1253
حدیث نمبر: 1253
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ , فَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ تَعْنِي إِزَارَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے محمد بن سیرین نے ، ان سے ام عطیہ انصاری رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( زینب یا ام کلثوم رضی اللہ عنہما ) کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو ۔ غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کافور یا ( یہ کہا کہ ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھے خبر دے دینا ۔ چنانچہ ہم نے جب غسل دے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا ازار دیا اور فرمایا کہ اسے ان کی قمیص بنا دو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنے ازار سے تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1253
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔