حدیث نمبر: 3036
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا ، وَيَدَعُوا يَوْمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں ، اور ایک دن کی رمی چھوڑ دیں ۔
حدیث نمبر: 3037
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ النَّحْرِ ، فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا " ، قَالَ مَالِكٌ : ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ : فِي الْأَوَّلِ مِنْهُمَا ، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو رمی کر لیں ، پھر یوم النحر کے بعد کے دو دنوں کی رمی ایک ساتھ جمع کر لیں ، خواہ گیارہویں ، بارہویں دونوں کی رمی بارہویں کو کریں ، یا گیارہویں کو بارہویں کی بھی رمی کر لیں ۱؎ ۔ مالک بن انس کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا : پہلے دن رمی کریں پھر جس دن کوچ کرنے لگیں اس دن کر لیں ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ وہ اونٹ چرانے کے لیے منیٰ سے دور چلے جاتے ہیں، ان کو روزی روٹی کے لیے منیٰ میں آنا دشوار ہے، اس لیے دونوں کی رمی ایک دن آ کر کر سکتے ہیں، مثلاً یوم النحر کو رمی کر کے چلے جائیں پھر ۱۱ ذی الحجہ کو نہ کریں،۱۲ کو آ کر دونوں دن کی رمی ایک بار لیں۔