حدیث نمبر: 3017
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سُئِلَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ ؟ ، قَالَ : " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " ، قَالَ وَكِيعٌ : وَالنَّصُّ يَعْنِي : فَوْقَ الْعَنَقِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ان سے پوچھا گیا : عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے چلتے تھے ؟ کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم «عنق» کی چال ( تیز چال ) چلتے ، اور جب خالی جگہ پاتے تو «نص» کرتے یعنی دوڑتے ۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عنق» سے زیادہ تیز چال کو «نص» کہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَتْ قُرَيْشٌ : " نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَيْتِ ، لَا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : قریش کہتے تھے کہ` ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں ، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎ ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ : «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں ( یعنی عرفات سے ) “ اتاری ۔
وضاحت:
۱؎: اسی وجہ سے وہ عرفات میں وقوف نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ «حل» میں واقع ہے، یعنی حرم سے باہر۔