حدیث نمبر: 3008
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ ، فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ ، وَمِنَّا مَنْ يُهِلُّ ، فَلَمْ يَعِبْ هَذَا عَلَى هَذَا ، وَلَا هَذَا عَلَى هَذَا ، وَرُبَّمَا قَالَ : هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ ، وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے ، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے ، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر ، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا : نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا ، اور نہ ان لوگوں نے ان پر ۔