کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: جو لوگ کہتے ہیں کہ حج کا فسخ یعنی اس کو عمرہ میں تبدیل کر دینے کا حکم صحابہ کے لیے خاص تھا ان کی دلیل۔
حدیث نمبر: 2984
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ فَسْخَ الْحَجِّ فِي الْعُمْرَةِ لَنَا خَاصَّةً ، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَلْ لَنَا خَاصَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کو فسخ کر کے عمرہ کر لینا صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے یا سارے لوگوں کے لیے عام ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نہیں ) بلکہ صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے “ ۔
حدیث نمبر: 2985
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَاصَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` حج تمتع اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا ۔