حدیث نمبر: 2896
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُوجِبُ الْحَجَّ ؟ ، قَالَ : " الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا الْحَاجُّ ؟ ، قَالَ : " الشَّعِثُ التَّفِلُ " ، وَقَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ومَا الْحَجُّ ؟ ، قَالَ : " الْعَجُّ وَالثَّجُّ " ، قَالَ وَكِيعٌ : يَعْنِي بِالْعَجِّ الْعَجِيجَ : بِالتَّلْبِيَةِ ، وَالثَّجُّ : نَحْرُ الْبُدْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سی چیز حج کو واجب کر دیتی ہے ، ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ” زاد سفر اور سواری ( کا انتظام ) “ اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! حاجی کیسا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری “ ایک دوسرا شخص اٹھا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «عج» اور «ثج» “ ۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عج» کا مطلب ہے لبیک پکارنا ، اور «ثج» کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا ۔
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِيهِ أَيْضًا عَنْ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ " يَعْنِي قَوْلَهُ : مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے فرمان : «من استطاع إليه سبيلا» کا مطلب زاد سفر اور سواری ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی قرآن میں جو آیا ہے کہ جو حج کے راہ کی طاقت رکھے اس سے مراد یہ ہے کہ کھانا اور سواری کا خرچ اس کے پاس ہو جائے تو حج فرض ہو گیا۔