کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: عصبہ کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2739
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ إِخْوَتِهِ لِأَبِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سگے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ، علاتی کے نہیں ، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہو گا علاتی بھائیوں کا نہیں “ ۔
وضاحت:
حقیقی (سگے) بھائی یعنی وہ جن کے ماں اور باپ دونوں ایک ہوں، اور علاتی سے مراد وہ بھائی ہیں جن کے باپ ایک ہو، اور ماں الگ الگ ہو، اور جن کی ماں ایک ہو باپ الگ الگ ہوں، انہیں اخیافی بھائی کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفرائض / حدیث: 2739
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, انظر الحديث السابق (2715), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الفرائض 5 ( 2094 ، 2095 ) ، ( تحفة الأشراف : 10043 ) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الفرائض 28 ( 3027 ) ، وقد مضی برقم : 2715 ( حسن ) ( سند میں ابو بحرالبکراوی اور الحارث الاعور دونوں ضعیف ہیں ، لیکن سعد بن الاطول رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے ) »
حدیث نمبر: 2740
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مال کو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق ذوی الفروض ( میراث کے حصہ داروں ) میں تقسیم کرو ، پھر جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کا ہو گا جو میت کا زیادہ قریبی ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جیسے بھائی چچا کے بہ نسبت اور چچا زاد بھائی کی بہ نسبت اور بیٹا پوتے کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفرائض / حدیث: 2740
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الفرائض 5 ( 6732 ) ، صحیح مسلم/الفرائض 1 ( 1615 ) ، سنن ابی داود/الفرائض 7 ( 2898 ) ، سنن الترمذی/الفرائض 8 ( 2098 ) ، ( تحفة الأشراف : 5705 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/292 ، 313 ، 325 ) ، سنن الدارمی/الفرائض 28 ( 3030 ) ( صحیح ) »