مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: چور کا اعتراف جرم۔
حدیث نمبر: 2588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سَمُرَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَرَقْتُ جَمَلًا لِبَنِي فُلَانٍ فَطَهِّرْنِي ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّا افْتَقَدْنَا جَمَلًا لَنَا ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ . قَالَ ثَعْلَبَةُ : أَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ وَقَعَتْ يَدُهُ وَهُوَ يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي طَهَّرَنِي مِنْكِ ، أَرَدْتِ أَنْ تُدْخِلِي جَسَدِي النَّارَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` عمرو بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہا : اللہ کے رسول ! میں نے بنی فلاں کا اونٹ چرایا ہے ، لہٰذا مجھے اس جرم سے پاک کر دیجئیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے پاس کسی کو بھیجا ، انہوں نے بتایا کہ ہمارا ایک اونٹ غائب ہو گیا ہے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ، اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں دیکھ رہا تھا جب اس کا ہاتھ کٹ کر گرا تو وہ کہہ رہا تھا : اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے تجھ سے پاک کیا ، تو چاہتا تھا کہ میرے جسم کو جہنم میں داخل کرے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد الرحمن بن ثعلبة: مجهول (تقريب: 3824), وابن لهيعة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 472
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2075 ، ومصباح الزجاجة : 915 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عبدالرحمن بن ثعلبہ مجہول اور عبداللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔