کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: شفعہ کا مطالبہ۔
حدیث نمبر: 2500
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّفْعَةُ كَحَلِّ الْعِقَالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شفعہ اونٹ کی رسی کھولنے کے مانند ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جیسے اونٹ کے کھٹنے کی رسی کھول دی جائے تو اونٹ فوراً اٹھ کھڑا ہوتا ہے اسی طرح بیع کی خبر ہوتے ہی اگر شفیع شفعہ لے تو ٹھیک ہے، اور اگر دیر کرے تو شفعہ کا حق باطل ہو گیا، یہ حدیث حنفیہ کی دلیل ہے جن کے نزدیک شفیع کو جب بیع کی خبر پہنچے تو فوراً اس کو طلب کرنا چاہئے، فقہ حنفی میں ہے کہ مجلس علم میں شفعہ طلب کرنا کافی ہے، اگرچہ مجلس دیر تک رہے، پس احناف کے نزدیک اگر شفیع فوراً یا اس مجلس میں شفعہ کا مطالبہ نہ کرے تو اس کا حق باطل ہو جاتا ہے۔ اور اہل حدیث کے نزدیک دیر کرنے سے شفعہ کا حق باطل نہیں ہوتا کیونکہ شفعہ کی احادیث مطلق ہیں، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی یہ حدیث جس سے حنفیہ نے استدلال کیا ہے سخت ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الشفعة / حدیث: 2500
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, محمد بن الحارث: ضعيف, وشيخه محمد بن عبد الرحمٰن بن البيلماني: ضعيف, والسند ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7292 ، ومصباح الزجاجة : 886 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں محمد بن الحارث ضعیف ہے ، اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم بالکذب ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 1542 )
حدیث نمبر: 2501
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا شُفْعَةَ لِشَرِيكٍ عَلَى شَرِيكٍ إِذَا سَبَقَهُ بِالشِّرَاءِ وَلَا لِصَغِيرٍ وَلَا لِغَائِبٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شریک کو شریک پر اس وقت شفعہ نہیں رہتا ہے ، جب وہ خریداری میں اس سے سبقت کر جائے ، اسی طرح نہ کم سن ( نابالغ ) کے لیے شفعہ ہے ، اور نہ غائب کے لیے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مثلاً کسی جائیداد میں زید، عمر اور بکر شریک ہیں،بکر نے اپنا حصہ زید کے ہاتھ بیچ دیا، تو عمر کو زید پر شفعہ کے دعویٰ کا حق حاصل نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الشفعة / حدیث: 2501
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, انظر الحديث السابق (2500), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7293 ، ومصباح الزجاجة : 887 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں محمد بن الحارث ضعیف راوی ہیں ، اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم با لکذب راوی ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 4804 )