کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: خالی زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ لَمَّا سَمِعَ إِكْثَارَ النَّاسِ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا مَنَحَهَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كِرَائِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب انہوں نے سنا کہ لوگ زمین کو کرائیے پر دینے کے سلسلے میں کثرت سے گفتگو کر رہے ہیں ، تو «سبحان اللہ» کہہ کر تعجب کا اظہار کیا ، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا : ” تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کو زمین مفت کیوں نہیں دے دی “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رافع رضی اللہ عنہ کو حدیث کا مطلب سمجھنے میں دھوکہ ہوا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2456
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحرث والمزارعة 10 ( 2330 ) ، الھبة 35 ( 2634 ) ، صحیح مسلم/البیوع 21 ( 1550 ) ، سنن ابی داود/البیوع 31 ( 3389 ) ، سنن الترمذی/الأحکام 42 ( 1385 ) ، سنن النسائی/المزراعة 2 ( 3904 ) ، ( تحفة الأشراف : 5735 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/234 ، 281 ، 349 ) ، ( 2342 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2457
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا " لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هُوَ الْحَقْلُ وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت دے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اتنی اور اتنی “ یعنی کوئی متعین رقم لے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہی «حقل» ہے ، اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2457
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 21 1550 ) ، ( تحفة الأشراف : 5718 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/313 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2458
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، قَالَ : كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَكَ مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلِي مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ " فَنُهِينَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِمَا أَخْرَجَتْ وَلَمْ نُنْهَ أَنْ نُكْرِيَ الْأَرْضَ بِالْوَرِقِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ` میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین کو اس شرط پر کرایہ پر دیتے تھے کہ فلاں جگہ کی پیداوار میری ہو گی ، اور فلاں جگہ کی تمہاری ، تو ہم کو پیداوار پر زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا ، البتہ چاندی کے بدلے یعنی نقد کرائے پر دینے سے ہمیں منع نہیں کیا گیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس قسم کی شرط بٹائی کی زمین میں درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ کسی قطعہ زمین کی پیداوار خوب ہوا، اور دوسرے قطعہ میں کچھ پیدا نہ ہو، دراصل اسی قسم کی بٹائی سے رسول اکرم ﷺ نے منع فرمایا تھا، صحابی رسول رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس سے مطلق بٹائی کی ممانعت سمجھ لی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2458
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحرث 7 ( 2327 ) ، 12 ( 2332 ) ، 19 ( 2346 ) ، الشروط 7 ، ( 2722 ) ، صحیح مسلم/البیوع 19 ( 1547 ) ، سنن ابی داود/البیوع 31 ( 3392 ، 3393 ) ، سنن النسائی/المزارعة 2 ( 3930 ، 3931 ، 3933 ) ، ( تحفة الأشراف : 3553 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/کراء الارض 1 ( 1 ) ، مسند احمد ( 4/142 ) ( صحیح ) »