کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: ایک ڈول پانی کھینچنے پر ایک عمدہ کھجور لینے کی شرط لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2446
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَصَابَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَاصَةٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا فَخَرَجَ يَلْتَمِسُ عَمَلًا يُصِيبُ فِيهِ شَيْئًا لِيُغِيثَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى بُسْتَانًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ ، فَاسْتَقَى لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ دَلْوًا كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ فَخَيَّرَهُ الْيَهُودِيُّ مِنْ تَمْرِهِ سَبْعَ عَشَرَةَ عَجْوَةً فَجَاءَ بِهَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بار بھوک لگی یہ خبر علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی ، تو وہ کام کی تلاش میں نکلے جسے کر کے کچھ پائیں تو لے کر آئیں تاکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلا سکیں ، چنانچہ وہ ایک یہودی کے باغ میں آئے ، اور اس کے لیے سترہ ڈول پانی کھینچا ، ہر ڈول ایک کھجور کے بدلے ، یہودی نے ان کو اختیار دیا کہ وہ اس کی کھجوروں میں سے سترہ عجوہ کھجوریں چن لیں ، وہ انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ۱؎ ۔
حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " كُنْتُ أَدْلُو الدَّلْوَ بِتَمْرَةٍ وَأَشْتَرِطُ أَنَّهَا جَلْدَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک کھجور کے بدلے ایک ڈول پانی نکالتا تھا ، اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ کھجور خشک اور عمدہ ہو ۔
حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَى لَوْنَكَ مُنْكَفِئًا ، قَالَ : " الْخَمْصُ " فَانْطَلَقَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمْ يَجِدْ فِي رَحْلِهِ شَيْئًا فَخَرَجَ يَطْلُبُ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودِيٍّ يَسْقِي نَخْلًا ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْيَهُودِيِّ : أَسْقِي نَخْلَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ . وَاشْتَرَطَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ لَا يَأْخُذَ خَدِرَةً وَلَا تَارِزَةً وَلَا حَشَفَةً ، وَلَا يَأْخُذَ إِلَّا جَلْدَةً ، فَاسْتَقَى بِنَحْوٍ مِنْ صَاعَيْنِ ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک انصاری نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا پاتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھوک سے “ ، یہ سن کر انصاری اپنے گھر گئے ، وہاں انہیں کچھ نہ ملا ، پھر کوئی کام ڈھونڈنے نکلے ، تو دیکھا کہ ایک یہودی اپنے کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا ہے ، انصاری نے یہودی سے کہا : میں تمہارے درختوں کو سینچ دوں ؟ اس نے کہا : ہاں ، سینچ دو ، کہا : ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور لوں گا ، اور انصاری نے یہ شرط بھی لگا لی کہ کالی ، سوکھی اور خراب کھجوریں نہیں لوں گا ، صرف اچھی ہی لوں گا ، اس طرح انہوں نے دو صاع کے قریب کھجوریں حاصل کیں ، اور انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ۔