حدیث نمبر: 2427
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ ، قَالَ وَكِيعٌ : وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ " ، قَالَ عَلِيٌّ الطَّنَافِسِيُّ : يَعْنِي عِرْضَهُ شِكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ سِجْنَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو قرض ادا کر سکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے ، اور اس کو سزا ( عقوبت ) پہنچانا جائز ہو جاتا ہے “ ۔ علی طنافسی کہتے ہیں : عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کر سکتا ہے ، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الأقضیة 29 ( 3628 ) ، سنن النسائی/البیوع 98 ( 4693 ) ، ( تحفة الأشراف : 4838 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/222 ، 388 ، 389 ) ( حسن ) » ( سند میں محمد بن میمون مجہول راوی ہیں ، جن سے وبر طائفی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 1434 )
حدیث نمبر: 2428
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي ، فَقَالَ لِي : " الْزَمْهُ " ، ثُمَّ مَرَّ بِي آخِرَ النَّهَارِ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہرماس بن حبیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے پیچھے لگے رہو “ ، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” اے بنی تمیم کے بھائی ! تمہارا قیدی کہاں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2428
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3629), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الأقضیة 29 ( 3629 ) ، ( تحفة الأشراف : 15544 ) ( ضعیف ) » ( ہرماس بن حبیب اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 2429
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا فَنَادَى كَعْبًا فَقَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " دَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا " وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّطْرِ ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلْتُ ، قَالَ : " قُمْ فَاقْضِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے ، اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی ، تو وہ بولے : حاضر ہوں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو “ ، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا ، تو وہ بولے : میں نے چھوڑ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اٹھو ، جاؤ ان کا قرض ادا کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الصلاة 71 ( 457 ) ، 83 ( 471 ) والخصومات 4 ( 2418 ) ، 9 ( 2424 ) ، الصلح 10 ( 2706 ) ، 14 ( 2710 ) ، صحیح مسلم/المسافاة 25 ( 1558 ) ، سنن ابی داود/الأقضیة 12 ( 3595 ) ، سنن النسائی/آداب القضاة 21 ( 5410 ) ، ( تحفة الأشراف : 11130 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/454 ، 460 ، 6/386 ، 390 ) ، سنن الدارمی/البیوع 49 ( 2629 ) ( صحیح ) »