کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: قرض خواہ کو یہ حق ہے کہ وہ مقروض کو سخت سست کہے۔
حدیث نمبر: 2425
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَيْنٍ أَوْ بِحَقٍّ ، فَتَكَلَّمَ بِبَعْضِ الْكَلَامِ فَهَمَّ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ ، إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يَقْضِيَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا قرض یا حق مانگنے آیا ، اور کچھ ( نامناسب ) الفاظ کہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی طرف بڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، رہنے دو ، قرض خواہ کو مقروض پر غلبہ اور برتری رہتی ہے ، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, حنش: حسين بن قيس الرحبي: متروك, وبه ضعفه البوصيري ولبعض الحديث شاهد حسن عند البزار (كشف الأستار 104/2 ح 1307), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6031 ، ومصباح الزجاجة : 851 ) ( ضعیف جدا ) » ( حنش کے بارے میں بخاری نے کہا کہ اس کی احادیث بہت زیادہ منکر ہیں ، اس حدیث کو لکھا نہیں جائے گا ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 318 )
حدیث نمبر: 2426
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَظُنُّهُ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ لَهُ : أُحَرِّجُ عَلَيْكَ إِلَّا قَضَيْتَنِي . فَانْتَهَرَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا : وَيْحَكَ ! تَدْرِي مَنْ تُكَلِّمُ ؟ قَالَ : إِنِّي أَطْلُبُ حَقِّي . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَّا مَعَ صَاحِبِ الْحَقِّ كُنْتُمْ " ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَقَالَ لَهَا : " إِنْ كَانَ عِنْدَكِ تَمْرٌ فَأَقْرِضِينَا حَتَّى يَأْتِيَنَا تَمْرُنَا فَنَقْضِيَكِ " ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَقْرَضَتْهُ . فَقَضَى الْأَعْرَابِيَّ وَأَطْعَمَهُ ، فَقَالَ : أَوْفَيْتَ أَوْفَى اللَّهُ لَكَ ، فَقَالَ : " أُولَئِكَ خِيَارُ النَّاسِ ، إِنَّهُ لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ فِيهَا حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا ، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سختی سے مطالبہ کیا ، اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کو تنگ کروں گا ، نہیں تو میرا قرض ادا کر دیجئیے ( یہ سن کر ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو جھڑکا اور کہا : افسوس ہے تجھ پر ، تجھے معلوم ہے کہ تو کس سے بات کر رہا ہے ؟ وہ بولا : میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صحابہ کرام سے ) فرمایا : ” تم صاحب حق کی طرف داری کیوں نہیں کرتے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت قیس کے پاس ایک آدمی بھیجا ، اور ان کو کہلوایا کہ ” اگر تمہارے پاس کھجوریں ہوں تو ہمیں اتنی مدت تک کے لیے قرض دے دو کہ ہماری کھجوریں آ جائیں ، تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے “ ، انہوں نے کہا : ہاں ، میرے باپ آپ پر قربان ہوں ، اللہ کے رسول ! میرے پاس ہے ، اور انہوں نے آپ کو قرض دے دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعرابی کا قرض ادا کر دیا ، اور اس کو کھانا بھی کھلایا ، وہ بولا : آپ نے میرا حق پورا ادا کر دیا ، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا دے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی بہتر لوگ ہیں ، اور کبھی وہ امت پاک اور مقدس نہ ہو گی جس میں کمزور بغیر پریشان ہوئے اپنا حق نہ لے سکے “ ۔
وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ آپ ﷺ کا کیا عدل و انصاف تھا، اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی یہ فرمایا کہ تم قرض خواہ کی مدد کرو، میری رعایت کیوں کرتے ہو، حق کا خیال اس سے زیادہ کیا ہو گا، آپ ﷺ کی نبوت کی یہ ایک کھلی دلیل ہے، نبی کے علاوہ دوسرے سے ایسا عدل و انصاف ہونا ممکن نہیں ہے، دوسری روایت میں ہے کہ پھر وہ گنوار جو کافر تھا مسلمان ہو گیا، اور کہنے لگا: میں نے آپ ﷺ سے زیادہ صابر نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4021 ، ومصباح الزجاجة : 852 ) ( صحیح ) »