کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جو قرض یا بےسہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں۔
حدیث نمبر: 2415
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ : " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ ؟ " ، فَإِنْ قَالُوا : نَعَمْ ، صَلَّى عَلَيْهِ . وَإِنْ قَالُوا : لَا ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُتُوحَ قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` جب کوئی مومن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وفات پا جاتا ، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے : ” کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے “ ؟ تو اگر لوگ کہتے : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے ، اور اگر کہتے : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو “ ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں ، تو جو کوئی وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو ، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے ، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اسلام کے ابتدائی عہد میں جب مال و دولت کی کمی تھی تو جب کوئی مقروض مرتا نبی کریم ﷺ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرماتے وہ پڑھ لیتے، پھر جب اللہ تعالی نے فتوحات دیں، اور مال غنیمت ہاتھ آیا تو آپ نے حکم دیا کہ اب جو کوئی مسلمان مقروض مرے اس کا قرضہ میں ادا کروں گا، اسی طرح بے سہارا بال بچے چھوڑ جائے تو ان کی پرورش کا ذمہ بھی میر ے سر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2415
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الفرائض 4 ( 1619 ) ، سنن النسائی/الجنائز 67 ( 1965 ) ، ( تحفة الأشراف : 15315 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الکفالة 5 ( 2298 ) ، النفقات 15 ( 5371 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 69 ( 1070 ) ، حم ( 2/290 ، 453 ) ، سنن الدارمی/البیوع 54 ( 2636 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے ، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے ، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2416
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الخراج 15 ( 2954 ) ، ( تحفة الأشراف : 2605 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/296 ، 371 ) ، وھوطرف حدیث تقدم برقم : 45 ) ( صحیح ) »