حدیث نمبر: 2403
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالدار کا ( قرض کی ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے ، تو اس کی حوالگی قبول کرے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے حوالہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 2404
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ، اور جب تمہیں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اس کی حوالگی کو قبول کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اگر آدمی مفلس ہو اور پیسہ پاس نہ ہو تو قرض ادا کرنے میں مجبوری ہے، لیکن پیسہ ہوتے ہوئے لوگوں کا قرض نہ دینا اس میں دیر لگانا گناہ ہے اور قرض خواہ پر ظلم ہے گویا اس کا حق مارنا گناہ ہے، اور اپنے نفس پر بھی ظلم ہے اس واسطے کہ زندگی کا اعتبار نہیں، شاید مر جائے اور قرض خواہ کا قرض رہ جائے، اس لئے جب پیسہ ہو تو فوراً قرض ادا کر دے۔