کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: صدقہ کر دینے کے بعد کیا اسے بکتا ہوا پا کر خرید سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 2392
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ ، أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْصَرَ صَاحِبَهَا يَبِيعُهَا بِكَسْرٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " لَا تَبْتَعْ صَدَقَتَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک گھوڑا صدقہ کیا ، پھر دیکھا کہ اس کا مالک اس کو کم دام میں بیچ رہا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا صدقہ مت خریدو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2392
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10546 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2393
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، " أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ : غَمْرٌ أَوْ غَمْرَةٌ فَرَأَى مُهْرًا أَوْ مُهْرَةً مِنْ أَفْلَائِهَا يُبَاعُ يُنْسَبُ إِلَى فَرَسِهِ فَنَهَى عَنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑی صدقہ میں دی جس کو غمر یا غمرۃ کہا جاتا تھا ، پھر اسی کے بچوں میں ایک بچھیرا یا بچھیری کو بکتا دیکھا ، جو ان کی گھوڑی کی نسل سے تعلق رکھتا تھا ، تو اس کو خریدنے سے روک دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2393
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سليمان التيمي عنعن, و حديث البخاري (2623) و مسلم (1620) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3632 ، ومصباح الزجاجة : 848 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/164 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عبد اللہ بن عامر غیر معروف راوی ہیں ، ان کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ وہ عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ غزی ثقہ راوی ہیں ، یا کوئی اور ، اس لئے اس احتمال کی وجہ سے حدیث ثابت نہیں )