حدیث نمبر: 2379
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ کوئی چیز نہیں ہے ، جس کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ملک ہو جائے گی “ ۔
وضاحت:
۱؎: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمریٰ والوں کے لئے، عمریٰ میراث ہو گی ایک روایت میں ہے کہ عمریٰ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2380
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ فِيهَا فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے کسی کو بطور عمریٰ کوئی چیز دی ، تو وہ جس کو دیا ہے اس کی اور اس کے بعد اس کے اولاد کی ہو جائے گی ، اس نے عمریٰ کہہ کر اپنا حق ختم کر لیا ، اب وہ چیز جس کو عمریٰ دیا گیا اس کی اور اس کے بعد اس کے وارثوں کی ہو گئی “ ۔
وضاحت:
۱؎: عمریٰ کرنے والے کو اب واپس لینے کا کوئی حق نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی عذر مقبول ہو گا۔
حدیث نمبر: 2381
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَعَلَ الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ وارث کو دلا دیا ۔
وضاحت:
۱؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عمریٰ دینے سے وہ چیز ہمیشہ کے لئے دینے والے کی ملکیت سے نکل جائے گی اور اس کی ہو جائے گی جس کو عمریٰ دیا گیا، اس کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی، اہل حدیث اور جمہور علماء کا یہی قول ہے۔