کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: بغیر طلب کئے خود سے گواہی دینے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2362
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سے لوگ بہتر ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے زمانہ والے ، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں ، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں ، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت ا س کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الشہادات 9 ( 2652 ) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 ( 2533 ) ، سنن الترمذی/المناقب 57 ( 3859 ) ، ( تحفة الأشراف : 9403 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/ 378 ، 417 ، 434 ، 438 ، 442 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا مِثْلَ مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ : " احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا ، اس خطبہ میں انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے جیسے میں تمہارے بیچ کھڑا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے صحابہ کی شان کے سلسلے میں میرا خیال رکھو پھر ان لوگوں کی شان کے سلسلے میں جو ان کے بعد ہوں ، پھر جو ان کے بعد ہوں ، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ ایک شخص گواہی دے گا اور کوئی اس سے گواہی نہ چاہے گا ، اور قسم کھائے گا اور کوئی اس سے قسم نہ چاہے گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مقام جابیہ شام کی ایک بستی کا نام ہے۔ میرا خیال رکھو یعنی کم از کم میری رعایت کرتے ہوئے انہیں کوئی ایذا نہ پہنچاؤ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2363
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10418 ، ومصباح الزجاجة : 828 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/26 ) ( صحیح ) » ( سند میں عبد الملک بن عمیر مدلس ہیں ، اور راویت عنعنہ سے کی ہے ، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ، الصحیحة : 431 ، 1116 )