کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جو شخص اپنا مال برباد کرتا ہو تو اس پر حجر (پابندی لگانا) درست ہے۔
حدیث نمبر: 2354
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَال : " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَا وَلَا خِلَابَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا ، اور وہ خرید و فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا ، اور اس کو خرید و فروخت کرنے سے منع کیا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ خرید و فروخت نہ کروں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا جب خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مجھ کو دھوکہ مت دو، اگر فریب ثابت ہو گا تو معاملہ فسخ کرنے کا مجھ کو اختیار ہو گا، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مجھ کو تین دن تک اختیار ہے (طبرانی اور بیہقی)۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2354
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/البیوع 68 ( 3501 ) ، سنن الترمذی/البیوع 28 ( 1250 ) ، سنن النسائی/البیوع 10 ( 4490 ) ، ( تحفة الأشراف : 1175 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/217 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2355
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ ، قَالَ : هُوَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أَصَابَتْهُ آمَّةٌ فِي رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ ، وَكَانَ لَا يَدَعُ عَلَى ذَلِكَ التِّجَارَةَ ، وَكَانَ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ : " إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ ، ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ` میرے دادا منقذ بن عمرو ہیں ، ان کے سر میں ایک زخم لگا تھا جس سے ان کی زبان بگڑ گئی تھی ، اس پر بھی وہ تجارت کرنا نہیں چھوڑتے تھے ، اور ہمیشہ ٹھگے جاتے تھے ، بالآخر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” جب تم کوئی چیز بیچو تو یوں کہہ دیا کرو : دھوکا دھڑی نہیں چلے گی ، پھر تمہیں ہر اس سامان میں جسے تم خریدتے ہو تین دن کا اختیار ہو گا ، اگر تمہیں پسند ہو تو رکھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: پس یہ اختیار خاص کر کے آپ ﷺ نے منقذ کو دیا تھا، اگر کسی کے عقل میں فتور ہو تو حاکم ایسا اختیار دے سکتا ہے، نیز مسرف اور بے وقوف پر حجر کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2355
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 19428 ، ومصباح الزجاجة : 826 ) ( حسن ) » ( سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں ، اور راویت عنعنہ سے کی ہے ، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے ، کما تقدم ، تراجع الألبانی : رقم : 102 )