کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: مدعی اپنے دعوے کے حق میں گواہی پیش کرے اور مدعیٰ علیہ (یعنی جس کے خلاف دعویٰ ہے) اس پر قسم کھائے۔
حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمُ ادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنْ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے ، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا ( ناحق ) دعویٰ کر بیٹھیں گے ، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہو اور مدعی علیہ قسم کھا لے تو وہ دعویٰ سے بری ہو گیا، اگر مدعی علیہ قسم اٹھانے پر تیار نہ ہو تو وہ دعویٰ کے مطابق مدعی کا حق ادا کرے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الرہن 6 ( 2514 ) ، الشہادات 20 ( 2668 ) ، تفسیر سورة آل عمران 3 ( 4552 ) ، صحیح مسلم/الاقضیة 1 ( 1711 ) ، سنن ابی داود/الاقضیة 23 ( 3619 ) ، سنن الترمذی/الاحکام 12 ( 1342 ) ، سنن النسائی/آداب القضاة 35 ( 5427 ) ، ( تحفة الأشراف : 5792 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/253 ، 288 ، 343 ، 351 ، 356 ، 363 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ : " احْلِفْ " ، قُلْتُ : إِذًا يَحْلِفَ فِيهِ فَيَذْهَبَ بِمَالِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی ، اس نے میرے حصہ کا انکار کر دیا ، تو میں اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس گواہ ہیں “ ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا : ” تم قسم کھاؤ “ ، میں نے عرض کیا : تب تو وہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ( سورة آل عمران : 77 ) ” جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا ، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا ، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا ، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المسافات 4 ( 2356 ، 2357 ) ، الرہن 6 ( 2515 ، 2516 ) ، الخصومات 4 ( 2416 ، 2417 ) ، الأحکام 30 ( 7183 ، 7184 ) ، صحیح مسلم/الایمان 61 ( 138 ) ، سنن ابی داود/الأقضیة 25 ( 3621 ) ، سنن الترمذی/البیوع 42 ( 1269 ) ، ( تحفة الأشراف : 158 ، 9244 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/211 ) ( صحیح ) »