کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: حرمت سود میں وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2273
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرَائِيلُ ؟ ، قَالَ : " هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معراج کی رات میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے پیٹ مکانوں کے مانند تھے ، ان میں باہر سے سانپ دکھائی دیتے تھے ، میں نے کہا : جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ سود خور ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2273
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو الصلت:مجهول (تقريب: 8178), وتلميذه علي بن زيد ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15443 ، ومصباح الزجاجة : 798 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/353 ، 363 ) ( ضعیف ) » ( سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 2274
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سود ستر گناہوں کے برابر ہے جن میں سے سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ستر کی تعداد سے مراد گنا ہ کی زیادتی اور اس فعل کی شناعت و قباحت کا اظہار ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2274
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،أبو معشر ھو نجيح بن عبد الرحمٰن متفق علي تضعيفه ‘‘, و للحديث شواھد ضعيفة عند ابن الجارود (647) و الحاكم (2/ 37) وغيرهما, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13073 ، ومصباح الزجاجة : 799 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابومعشر نجیح بن عبد الرحمن سندی ضعیف راوی ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پرحدیث صحیح ہے )
حدیث نمبر: 2275
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ أَبُو حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرِّبَا ثَلَاثَةٌ وَسَبْعُونَ بَابًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سود کے تہتر دروازے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2275
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إبراھيم النخعي مدلس وعنعن, اضافه از معاذ: وله شاھد موقوف صحيح عند المروزي في السنة (201،وسنده صحيح) والخلال في السنة (1496) وھو يغني عنه،لعله حكمًا مرفوعًا،والله اعلم, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9561 ، ومصباح الزجاجة : 800 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2276
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` آخری آیت جو نازل ہوئی ، وہ سود کی حرمت والی آیت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر ہم سے بیان نہیں کی ، لہٰذا سود کو چھوڑ دو ، اور جس میں سود کا شبہ ہو اسے بھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگرچہ سود کی آیت کے بعد اور کئی آیتیں اتریں، لیکن اس کو آخری اس اعتبار سے کہا کہ معاملات کے باب میں اس کے بعد کوئی آیت نہیں اتری، مقصد یہ ہے کہ سود کی آیت منسوخ نہیں ہے، اس کا حکم قیامت تک باقی ہے، اور نبی کریم ﷺ نے اس کی تفسیر نہیں کی یعنی جیسا چاہئے ویسا کھول کر سود کا مسئلہ بیان نہیں کیا، چھ چیزوں کا بیان کر دیا کہ ان میں سود ہے: سونا، چاندی، گیہوں، جو، نمک، اور کھجور، اور چیزوں کا بیان نہیں کیا کہ ان میں سود ہوتا ہے یا نہیں، لیکن مجتہدین نے اپنے اپنے قیاس کے موافق دوسری چیزوں میں بھی سود قرار دیا، اب جن چیزوں کو نبی کریم ﷺ نے بیان کر دیا ان میں تو سود کی حرمت قطعی ہے، کسی مسلمان کو اس کے پاس پھٹکنا نہ چاہئے، رہیں اور چیزیں جن میں اختلاف ہے تو تقوی یہ ہے کہ ان میں بھی سود کا پرہیز کرے، لیکن اگر کوئی اس میں مبتلا ہو جائے تو اللہ سے استغفار کرے اور حتی المقدور دوبارہ احتیاط رکھے، اور یہ زمانہ ایسا ہے کہ اکثر لوگ سود کھانے سے بچتے ہیں تو دینے میں گرفتار ہوتے ہیں، حالانکہ دونوں کا گناہ برابر ہے، اللہ ہی اپنے بندوں کو بچائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2276
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة عنعن, وله طريق آخر عند الإسماعيلي كما في مسند الفاروق (571/2), وإسناده ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10454 ) ، وقد أخرجہ : ( حم ( 1/36 ، 49 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدِيهِ وَكَاتِبَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے کھانے والے پر ، کھلانے والے پر ، اس کی گواہی دینے والے پر ، اور اس کا حساب لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2277
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/البیوع 4 ( 3333 ) ، سنن الترمذی/البیوع 2 ( 1206 ) ، ( تحفة الأشراف : 9356 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساقاة 19 ( 1597 ) ، سنن النسائی/الطلاق 13 ( 3445 ) ، مسند احمد ( 1/393 ، 394 ، 402 ، 453 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2278
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا آكِلُ الرِّبَا فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یقیناً لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی ایسا نہ بچے گا جس نے سود نہ کھایا ہو ، جو نہیں کھائے گا اسے بھی اس کا غبار لگ جائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2278
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داو د (3331) نسائي (4460), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج حدیث « سنن ابی داود/البیوع 3 ( 3331 ) ، سنن النسائی/البیوع 2 ( 4460 ) ، ( تحفة الأشراف : 12241 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/494 ) ( ضعیف ) » ( سعید بن أبی خیرہ مقبول راوی ہیں ، یعنی متابعت کی موجود گی میں ، اور متابع کوئی نہیں ہے ، اس لئے لین الحدیث ہیں ، یعنی کمزوری اور ضعیف ہیں ، حسن بصری کا سماع ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے )
حدیث نمبر: 2279
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ رُكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَحَدٌ أَكْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلَّا كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قِلَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بھی سود سے مال بڑھایا ، اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا مال گھٹ جاتا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: سودی کاروبار کرنے والا اپنا مال بڑھانے کے لئے زیادہ سود لیتا ہے، لیکن غیب سے ایسی آفتیں اترتی ہیں کہ مال میں برکت نہیں رہتی، سب تباہ و برباد ہو جاتا ہے، اور آدمی مفلس بن جاتا ہے۔ اس امر کا تجربہ ہو چکا ہے، مسلمان کو کبھی سودی کاروبار سے ترقی نہیں ہوتی، البتہ کفار و مشرکین کا مال سود سے بڑھتا ہے، وہ کافر ہیں ان کو سود کی حرمت سے کیا غرض، ان کو تو پہلے ایمان لانے کا حکم ہے۔ اورچونکہ ان کی آخرت تباہ کن ہے، اس لیے دنیا میں ان کو ڈھیل دے دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2279
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9203 ، ومصباح الزجاجة : 802 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/395 ، 424 ) ( صحیح ) »