حدیث نمبر: 2262
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَوْ سِمَاكٌ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا سِمَاكًا ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ فَكُنْتُ آخُذُ الذَّهَبَ مِنَ الْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ مِنَ الذَّهَبِ ، وَالدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ أَحَدَهُمَا وَأَعْطَيْتَ الْآخَرَ ، فَلَا تُفَارِقْ صَاحِبَكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں اونٹ بیچا کرتا تھا ، تو میں چاندی ( جو قیمت میں ٹھہرتی ) کے بدلے سونا لے لیتا ، اور سونا ( جو قیمت میں ٹھہرتا ) کے بدلے چاندی لے لیتا ، اور دینار درہم کے بدلے ، اور درہم دینار کے بدلے لے لیتا تھا ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا کہ ایسا کرنا کیسا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم دونوں میں سے ایک لے لو اور دوسرا دیدے تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک کہ حساب صاف نہ ہو جائے “ ۔
حدیث نمبر: 2262M
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے ۔