کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: بیع صرف (سونے چاندی کو سونے چاندی کے بدلے نقد بیچنے) کا بیان اور نقداً کمی و بیشی کر کے نہ بیچی جانے والی چیزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونے کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ، اور گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ، اور کھجور کا کھجور سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے، لیکن ابوسعید کی روایت میں جو صحیحین میں وارد ہے، دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں تفاضل (کمی بیشی) اور نسیئہ (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو درست ہے، اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 2254
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَاهُ ، قَالَا : جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَمُعَاوِيَةَ إِمَّا فِي كَنِيسَةٍ وَإِمَّا فِي بِيعَةٍ ، فَحَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، فقَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ " ، قَالَ أَحَدُهُمَا : وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ " وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید سے روایت ہے کہ` عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں کسی کلیسا یا گرجا میں اکٹھا ہوئے ، تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کو چاندی سے ، اور سونے کو سونے سے ، اور گیہوں کو گیہوں سے ، اور جو کو جو سے ، اور کھجور کو کھجور سے بیچنے سے منع کیا ہے ۔ ( مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید ان دونوں میں سے ایک نے کہا ہے : ” اور نمک کو نمک سے “ اور دوسرے نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے ) اور ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم گیہوں کو جو سے اور جو کو گیہوں سے نقدا نقد ( برابر یا کم و بیش ) جس طرح چاہیں بیچیں ۔
حدیث نمبر: 2255
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ ، وَالْحِنْطَةَ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاندی کو چاندی سے ، اور سونے کو سونے سے ، اور جو کو جو سے اور گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان میں تفاضل (کمی بیشی) درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2256
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْزُقُنَا تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ ، فَنَسْتَبْدِلُ بِهِ تَمْرًا هُوَ أَطْيَبُ مِنْهُ وَنَزِيدُ فِي السِّعْرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصْلُحُ صَاعُ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ ، وَلَا دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ ، وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا إِلَّا وَزْنًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختلف قسم کی مخلوط کھجوریں کھانے کو دیتے تھے ، تو ہم انہیں عمدہ کھجور سے بدل لیتے تھے ، اور اپنی کھجور بدلہ میں زیادہ دیتے تھے ، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور سے اور ایک درہم کو دو درہم سے بیچنا درست نہیں ، درہم کو درہم سے ، اور دینار کو دینار سے ، برابر برابر وزن کر کے بیچو ، ان میں کمی بیشی جائز نہیں “ ۔