حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، وَعَلِيٌّ ابنا الحسن بن أبي الحسن البراد ، أن الزبير بن المنذر بن أبي أسيد الساعدي حدثهما ، أن أباه المنذر حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى سُوقِ النَّبِيطِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ " ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى سُوقٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ " ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا السُّوقِ ، فَطَافَ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا سُوقُكُمْ فَلَا يُنْتَقَصَنَّ وَلَا يُضْرَبَنَّ عَلَيْهِ خَرَاجٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبیط کے بازار تشریف لے گئے ، اس کو دیکھا تو آپ نے فرمایا : ” یہ بازار تمہارے لیے نہیں ہے پھر ایک دوسرے بازار میں تشریف لے گئے ، اور اس کو دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بازار بھی تمہارے لیے نہیں ہے ، پھر اس بازار میں پلٹے اور اس میں ادھر ادھر پھرے ، پھر فرمایا : ” یہ تمہارا بازار ہے ، اس میں نہ مال کم دیا جائے گا اور نہ اس میں کوئی محصول ( ٹیکس ) عائد کیا جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَوْنٌ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَايَةِ الْإِيمَانِ ، وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ غَدَا بِرَايَةِ إِبْلِيسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو صبح سویرے نماز فجر کے لیے گیا ، وہ ایمان کا جھنڈا لے کر گیا ، اور جو صبح سویرے بازار گیا وہ ابلیس کا جھنڈا لے کر گیا “ ۔
حدیث نمبر: 2235
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ : حِينَ يَدْخُلُ السُّوقَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ كُلُّهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت دعا یہ پڑھے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير كله وهو على كل شيء قدير» ” اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے حکمرانی ہے ، اور اسی کے لیے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے ، وہی زندگی ، اور موت دیتا ہے ، اور وہ زندہ ہے ، اس کے لیے موت نہیں ، اسی کے ہاتھ میں سارا خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے “ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا ، اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دے گا ، اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کرے گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بازار میں اس دعا کا ثواب اس واسطے زیادہ ہوا کہ بازار دنیا میں مشغول ہونے اور اللہ سے غفلت کی جگہ ہے تو اس جگہ اللہ کو یاد رکھنا بڑے جواں مردوں کا کام ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: «رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ» (سورہ النور: 37) دوسری روایت میں ہے کہ شیطان بازار میں اپنی کرسی بچھاتا ہے اور لوگوں کو بھڑکاتا ہے، تو وہاں اللہ کی یاد گویا شیطان کو ذلیل کرنا ہے۔