کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: بیع منابذہ اور ملامسہ کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2169
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیع سے منع کیا ہے : ایک بیع ملامسہ سے ، دوسری بیع منابذہ سے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: منابذہ: یہ ہے کہ بائع (بیچنے والا) اپنا کپڑا مشتری (خریدنے والے) کی طرف پھینک دے، اور مشتری بائع کی طرف، اور ہر ایک یہ کہے کہ یہ کپڑا اس کپڑے کا بدل ہے، اور بعضوں نے کہا کہ منابذہ یہ ہے کہ کپڑا پھینکنے سے بیع پوری ہو جائے نہ اس چیز کو دیکھیں نہ راضی ہوں۔ ملامسہ: یہ ہے کہ کپڑے کو چھو لیں نہ اس کو کھولیں نہ اندر سے دیکھیں، یا رات کو صرف چھو کر بیچیں، ان دونوں بیعوں سے منع کیا، کیونکہ ان میں دھوکہ ہے اور یہ شرعاً فاسد ہے کہ دیکھنے پر کسی کو بیع کے فسخ کا اختیار نہ ہو گا۔ (الروضہ الندیہ)۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2169
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصلاة 10 ( 368 ) ، المواقیت 30 ( 584 ) ، الصوم 67 ( 1993 ) ، البیوع 63 ( 2146 ) ، اللباس 20 ( 5819 ) ، 21 ( 5821 ) ، صحیح مسلم/البیوع 1 ( 1511 ) ، سنن النسائی/البیوع 24 ( 4521 ) ، ( تحفة الأشراف : 12265 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البیوع 69 ( 1310 ) ، موطا امام مالک/البیوع 35 ( 76 ) ، مسند احمد ( 2/279 ، 319 ، 419 ، 464 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2170
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " . زَادَ سَهْلٌ ، قَالَ سُفْيَانُ : الْمُلَامَسَةُ : أَنْ يَلْمِسَ الرَّجُلُ بِيَدِهِ الشَّيْءَ وَلَا يَرَاهُ وَالْمُنَابَذَةُ ، أَنْ يَقُولَ : أَلْقِ إِلَيَّ مَا مَعَكَ وَأُلْقِي إِلَيْكَ مَا مَعِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ و منابذہ سے منع کیا ہے ۔ سہل نے اتنا مزید کہا ہے کہ سفیان نے کہا کہ ملامسہ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہاتھ سے چھوئے اور اسے دیکھے نہیں ، ( اور بیع ہو جائے ) اور منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے کہے کہ جو تیرے پاس ہے میری طرف پھینک دے ، اور جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینکتا ہوں ( اور بیع ہو جائے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2170
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث « صحیح البخاری/البیوع 62 ( 2144 ) ، 63 ( 2147 ) ، اللباس 20 ( 5820 ) ، الاستئذان 42 ( 6284 ) ، صحیح مسلم/البیوع 1 ( 1512 ) ، سنن ابی داود/البیوع 24 ( 4519 ) ، سنن النسائی/البیوع 24 ( 4524 ) ، 25 ( 4527 ) ، ( تحفة الأشراف : 4154 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/6 ، 59 ، 66 ، 67 ، 71 ، 95 ) ، سنن الدارمی/البیوع 28 ( 2604 ) ( صحیح ) »