حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَالِمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ وَالْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «جلب» کرنے والا روزی پاتا ہے اور ( ذخیرہ اندوزی ) کرنے والا ملعون ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ذخیرہ اندوزی («حکر» اور «احتکار» ) یہ ہے کہ مال خرید کر اس انتظار میں رکھ چھوڑے کہ جب زیادہ مہنگا ہو گا تو بیچیں گے۔ «جلب» : یہ ہے کہ شہر میں بیچنے کے لئے دوسرے علاقہ سے مال لے کر آئے۔: ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت آئی ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذخیرہ اندوزی حرام ہے، لیکن مراد وہی ذخیرہ اندوزی ہے کہ جس وقت شہر میں غلہ نہ ملتا ہو اور لوگوں کو غلہ کی احتیاج ہو، کوئی شخص بہت سا غلہ لے کر بند کر کے رکھ چھوڑے اور شہر والوں کے ہاتھ نہ بیچے اس انتظار میں کہ جب اور زیادہ گرانی ہو گی تو بیچیں گے، یہ اس وجہ سے حرام ہوا کہ اپنے ذرا سے فائدہ کے لئے لوگوں کو تکلیف دینا ہے، اور مردم آزاری کے برابر کوئی گناہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2154
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذخیرہ اندوزی صرف خطاکار کرتا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 2155
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْمَكِّيُّ ، عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو مسلمانوں کے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جذام ( کوڑھ ) یا افلاس ( فقر ) میں مبتلا کر دے گا “ ۔