کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: روزی کمانے کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 2137
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا سب سے عمدہ کھانا وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی کا ہو ، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر والدین محتاج اور ضرورت مند ہوں تو ان کا نفقہ (خرچ) اولاد پر واجب ہے، اور جو محتاج یا عاجز نہ ہوں تب بھی اولاد کی رضامندی سے اس کے مال میں سے کھا سکتے ہیں، مطلب حدیث کا یہ ہے کہ اولاد کا مال کھانا بھی طیب (پاکیزہ) اور حلال ہے، اور اپنے کمائے ہوئے مال کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن النسائی/البیوع 1 ( 4454 ) ، ( تحفة الأشراف : 15961 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/البیوع 79 ( 3528 ) ، سنن الترمذی/الأحکام 22 ( 1358 ) ، مسند احمد ( 6/31 ، 42 ، 127 ، 162 ، 193 ، 220 ) ، سنن الدارمی/البیوع 6 ( 2579 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2138
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا كَسَبَ الرَّجُلُ كَسْبًا أَطْيَبَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهِ ، وَأَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَخَادِمِهِ ، فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقدام بن معدیکرب زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہو ، اور آدمی اپنی ذات ، اپنی بیوی ، اپنے بچوں اور اپنے خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11561 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع 15 ( 2072 ) ، مسند احمد ( 4/131 ، 132 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2139
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّاجِرُ الْأَمِينُ الصَّدُوقُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سچا ، امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہو گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تجارت کے ساتھ سچائی اور امانت داری بہت مشکل کام ہے، اکثر تاجر جھوٹ بولتے ہیں اور سودی لین دین کرتے ہیں، تو کوئی تاجر سچا امانت دار، متقی اور پرہیزگار ہو گا تو اس کو شہیدوں کا درجہ ملے گا، اس لئے کہ جان کے بعد آدمی کو مال عزیز ہے، بلکہ بعض مال کے لئے جان گنواتے ہیں جیسے شہید نے اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کی، ایسے ہی متقی تاجر نے اللہ تعالی کی راہ میں دولت خرچ کی، اور حرام کا لالچ نہ کیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2139
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, كلثوم بن جوشن: ضعيف(تقريب: 5655), وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (1209), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7598 ، ومصباح الزجاجة : 755 ) ( حسن صحیح ) ( تراجع الألبانی : رقم : 248 ) »
حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَالَّذِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوہ عورتوں اور مسکینوں کے لیے محنت و کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے ، اور اس شخص کے مانند ہے جو رات بھر قیام کرتا ، اور دن کو روزہ رکھتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2140
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث « صحیح البخاری/النفقات 1 ( 5353 ) ، صحیح مسلم/الزہد والرقائق 2 ( 2982 ) ، سنن الترمذی/البروالصلة 44 ( 1969 ) ، سنن النسائی/الزکاة 78 ( 2578 ) ، ( تحفة الأشراف : 12914 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/361 ) ( حسن صحیح ) »
حدیث نمبر: 2141
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا : نَرَاكَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ ، فَقَالَ : " أَجَلْ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ " ثُمَّ أَفَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى ، فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن خبیب کے چچا سے روایت ہے` ہم ایک مجلس میں تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں اچانک تشریف لے آئے ، آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا ، ہم میں سے ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا : آپ کو ہم آج بہت خوش دل پا رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، بحمداللہ خوش ہوں “ ، پھر لوگوں نے مالداری کا ذکر چھیڑ دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل تقویٰ کے لیے مالداری کوئی حرج کی بات نہیں ، اور تندرستی متقی کے لیے مالداری سے بہتر ہے ، اور خوش دلی بھی ایک نعمت ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: صحت اور خوش دلی کی نعمت تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اگر مال لاکھوں کروڑوں ہو، لیکن صحت اور خوش دلی و اطمینان نفس نہ ہو تو سب بیکار ہے، یہ صحت اور طبیعت کی خوشی اللہ تعالی کی طرف سے ہے، جس بندے کو اللہ چاہتا ہے ان نعمتوں کو عطا کرتا ہے، یا اللہ ہم کو بھی ہمیشہ صحت و عافیت اور خوش دلی اور اطمینان قلب کی نعمت میں رکھ۔ آمین۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2141
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15606 ، ومصباح الزجاجة : 756 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/372 ، 381 ) ( صحیح ) »