کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: کفارہ میں فقراء اور مساکین کو درمیانی درجہ کا کھانا کھلانا چاہئے۔
حدیث نمبر: 2113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ سَعَةٌ ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ شِدَّةٌ ، فَنَزَلَتْ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ سورة المائدة آية 89 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` بعض آدمی اپنے گھر والوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں جس میں فراخی ہوتی ہے ، اور بعض آدمی تنگی کے ساتھ دیتے ہیں تب یہ آیت اتری : «من أوسط ما تطعمون أهليكم» ” مسکینوں کو وہ کھانا دو جو درمیانی قسم کا اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو “ ۔