کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: ہنسی مذاق میں طلاق دینے یا نکاح کرنے یا رجوع کرنے کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2039
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ ، وَالطَّلَاقُ ، وَالرَّجْعَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین کام ہیں جو سنجیدگی سے کرنا بھی حقیقت ہے ، اور مذاق کے طور پر کرنا بھی حقیقت ہے ، ایک نکاح ، دوسرے طلاق ، تیسرے ( طلاق سے ) رجعت “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ہنسی مذاق اور ٹھٹھے کے طور پر اور اس کے مقابل جِد ہے یعنی درحقیقت ایک کام کا کرنا۔