کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: عورت کا اپنی باری سوکن کو ہبہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1972
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا كَبِرَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِ سَوْدَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں ، تو انہوں نے اپنی باری کا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کی باری والے دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1972
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «حدیث أبي بکر أخرجہ : صحیح مسلم/النکاح 14 ( 1463 ) ، ( تحفة الأشراف : 17101 ) ، وحدیث محمد بن الصبَّاح تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17039 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الھبة 15 ( 2593 ) ، النکاح 99 ( 5212 ) ، سنن ابی داود/النکاح 39 ( 2135 ) ، مسند احمد ( 6/ 107 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ : يَا عَائِشَةُ ، هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَلَكِ يَوْمِي ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ ، ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ إِلَيْكِ عَنِّي إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ " ، فَقَالَتْ : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا پر کسی وجہ سے ناراض ہو گئے ، تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا : عائشہ ! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کر سکتی ہو ، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، چنانچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا ، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ مجھ سے دور ہو جاؤ ، آج تمہاری باری نہیں ہے “ ، تو انہوں نے کہا : یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1973
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17844 ، ومصباح الزجاجة : 697 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/95 ، 145 ) ( ضعیف ) » ( سند میں سمیہ بصریہ غیر معروف ہے )
حدیث نمبر: 1974
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَمْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ سورة النساء آية 128 فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ طَالَتْ صُحْبَتُهَا ، وَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلَادًا ، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِهَا ، فَرَاضَتْهُ عَلَى أَنْ تُقِيمَ عِنْدَهُ وَلَا يَقْسِمَ لَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` یہ آیت : «والصلح خير» اس شخص کے بارے میں اتری جس کی ایک بیوی تھی اور مدت سے اس کے ساتھ رہی تھی ، اس سے کئی بچے ہوئے ، اب مرد نے ارادہ کیا کہ اس کے بدلے دوسری عورت سے نکاح کرے ( اور اسے طلاق دیدے ) چنانچہ اس عورت نے مرد کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اس کے پاس رہے گی ، اور وہ اس کے لیے باری نہیں رکھے گا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1974
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17128 ) ( حسن ) » ( سند میں اختلاف ہے ، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے )