کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1969
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل رہے ، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1969
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف سنن أبي داود (2133) ترمذي (1141) نسائي (3394), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج حدیث « سنن ابی داود/النکاح 39 ( 2133 ) ، سنن الترمذی/النکاح 41 ( 1141 ) ، سنن النسائی/عشرةالنساء 2 ( 3394 ) ، ( تحفة الأشراف : 12213 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/347 ، 471 ) ، سنن الدارمی/النکاح 24 ( 2252 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1970
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے، باقی عورتوں کو مدینہ میں چھوڑ جاتے اور یہ آپ ﷺ کا کمال انصاف تھا، ورنہ علماء نے کہا ہے کہ آپ ﷺ پر بیویوں کے درمیان تقسیم ایام واجب نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دے دیا تھا کہ جس عورت کے پاس چاہیں رہیں: «تُرْجِي مَن تَشَاء مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاء» (سورة الأحزاب: 51) ان میں سے جسے چاہیں دور رکھیں اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16678 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الھبة 15 ( 2593 ) ، النکاح 97 ( 5092 ) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 ( 2445 ) ، سنن ابی داود/النکاح 39 ( 2138 ) ، مسند احمد ( 6/117 ، 151 ، 197 ، 269 ) ، سنن الدارمی/الجہاد 31 ( 2467 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1971
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَيَعْدِلُ ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری مقرر کرتے ، اور باری میں انصاف کرتے ، پھر فرماتے تھے : ” اے اللہ ! یہ میرا کام ہے جس کا میں مالک ہوں ، لہٰذا تو مجھے اس معاملہ ( محبت کے معاملہ ) میں ملامت نہ کر جس کا تو مالک ہے ، اور میں مالک نہیں ہوں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: رسول اکرم ﷺ کے اسوہ کے مطابق مرد کا اختیار جہاں تک ہے، وہاں تک بیویوں کے درمیان عدل کرے، ہر ایک عورت کے پاس باری باری رہنا یہ اختیاری معاملہ ہے جو ہو سکتا ہے، لیکن دل کی محبت اور جماع کی خواہش یہ اختیاری نہیں ہے، کسی عورت سے رغبت ہوتی ہے، کسی سے نہیں ہوتی، تو اس میں برابری کرنا یہ مرد سے نہیں ہو سکتا، بس اللہ تعالی اس کو معاف کر دے گا، الروضہ الندیہ میں ہے کہ عورت کو اختیار ہے کہ اپنی باری کسی دوسری عورت کو ہبہ کر دے جیسے اس کا ذکر آگے آتا ہے، یا اپنی باری شوہر کو معاف کر دے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1971
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف لكن الطرف الأول منه حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/النکاح 39 ( 2134 ) ، سنن الترمذی/النکاح 41 ( 1140 ) ، سنن النسائی/عشرة النکاح 2 ( 3395 ) ، ( تحفة الأشراف : 16290 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/144 ) ، سنن الدارمی/النکاح 25 ( 2253 ) ( ضعیف ) » ( لیکن رسول اکرم ﷺ کا بیویوں کے درمیان ایام کی تقسیم ثابت ہے ، تراجع الألبانی : رقم : 346 )