کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: (شادی میں) کفو کا بیان۔
حدیث نمبر: 1967
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابُورَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو فُلَيْحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ ابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ ، فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے شادی کر دو ، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑی خرابی ہو گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ «کفو» کا اعتبار صرف دین اور اخلاق میں کیا جائے گا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چار چیزوں (دین، نسب آزادی اور پیشہ و صنعت میں) معتبر ہے، لیکن پہلا قول راجح ہے،اور اس کے قابل ترجیح ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1967
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1084), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج حدیث « سنن الترمذی/النکاح 3 ( 1084 ) ، ( تحفة الأشراف : 15485 ) ( حسن ) » ( سند میں عبد الحمید ضعیف راوی ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 1868 ، لیکن متابعت کی وجہ سے حسن ہے )
حدیث نمبر: 1968
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ ، وَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے نطفوں کے لیے نیک عورت کا انتخاب کرو ، اور اپنے برابر والوں سے نکاح کرو ، اور انہیں کو اپنی بیٹیوں کے نکاح کا پیغام دو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «اکفاء» «کفو» کی جمع ہے، کاف کے ضمہ اور خاء کے سکون کے ساتھ اس کے معنی مثل، نظیر اور ہمسر کے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1968
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدا منكر, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16784 ، ومصباح الزجاجة : 696 ) ( حسن ) » ( سند میں الحارث الجعفری ضعیف ہیں ، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے ، ملاحظہ ہو : الصحیحة : 1067 )