کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت۔
حدیث نمبر: 1916
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلثَّيِّبِ ثَلَاثًا ، وَلِلْبِكْرِ سَبْعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غیر کنواری ( شوہر دیدہ ) کے لیے تین دن ، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں ، ( پھر باری تقسیم کر دیں ) “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: باب کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کے پاس پہلے سے بیوی ہو، اب ایک نئی شادی اور کر لے تو اگر نئی بیوی کنواری ہو تو سات دن تک اس کے پاس رہے، اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن تک، پھر دونوں بیویوں کے پاس باری باری ایک ایک روز رہا کرے، اور اس سے غرض یہ ہے کہ نئی دلہن کا دل ملانا ضروری ہے، اگر پہلے سے ہی باری باری رہے تو اس کو وحشت ہو جانے کا ڈر ہے، اور کنواری کا دل ذرا دیر میں ملتا ہے، اس لئے سات دن اس کے لئے رکھے، اور ثیبہ کا دل جلدی مل جاتا ہے، تین دن اس کے لئے رکھے، اور اس باب میں صحیح حدیثیں وارد ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1916
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « صحیح البخاری/النکاح 100 ( 5214 ) ، صحیح مسلم/الرضاع 12 ( 1461 ) ، سنن ابی داود/النکاح 35 ( 2124 ) ، سنن الترمذی/النکاح 40 ( 1139 ) ، ( تحفة الأشراف : 944 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/النکاح 5 ( 15 ) ، سنن الدارمی/النکاح 27 ( 2255 ) ( حسن ) » ( اصل حدیث دوسرے طرق سے ثابت ہے کمافی التخریج )
حدیث نمبر: 1917
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ، وَقَالَ : " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے ، اور فرمایا : ” تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں ، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1917
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الرضاع 12 ( 1460 ) ، سنن ابی داود/النکاح 35 ( 2122 ) ، ( تحفة الأشراف : 18229 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/النکاح 5 ( 14 ) ، مسند احمد ( 6/292 ، 295 ، 307 ) ، سنن الدارمی/النکاح 27 ( 2256 ) ( صحیح ) »