کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، قَالَ : خَطَبْتُ امْرَأَةً ، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي نَخْلٍ لَهَا ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا أَلْقَى اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا ، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا ، لوگوں نے ان سے کہا : آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسول ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جب اللہ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے ، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ ضرورت کے وقت دیکھنا ہے، اور ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے جیسے قاضی اور گواہ کا عورت کو دیکھنا صحیح اور جائز ہے، اسی طرح طبیب کو علاج کے لئے اس مقام کو دیکھنا درست ہے جہاں دیکھنے کی ضرورت ہو، اہل حدیث، شافعی، ابوحنیفہ، احمد اور اکثر اہل علم کا مذہب یہی ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مقصود ہو اس کا دیکھنا جائز ہے، اور امام مالک کہتے ہیں کہ یہ عورت کی اجازت سے صحیح ہے، بغیر اس کی اجازت کے صحیح نہیں، اور ایک روایت ان سے یہ ہے کہ صحیح نہیں ہے، اس باب میں ایک یہ حدیث ہے، دوسری مغیرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو آگے آ رہی ہے، تیسری ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کا ارادہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کو دیکھا تھا ؟ وہ بولا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اس کو دیکھ لو، اس لئے کہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے، آپ ﷺ نے جو فرمایا ویسا ہی ہوا، اور اس عورت سے خوب موافقت رہی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1864
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحجاج بن أرطاة: ضعيف, وسقط ذكره من صحيح ابن حبان (الموارد: 1235), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11228 ، ومصباح الزجاجة : 664 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/493 ، 4/225 ) ( صحیح ) » ( سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 98 )
حدیث نمبر: 1865
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا " فَفَعَلَ ، فَتَزَوَّجَهَا ، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کرنا چاہا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” جاؤ اور اس کو دیکھ لو ایسا کرنے سے زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان الفت و محبت ہو “ ، مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ، اور پھر شادی کی ، پھر انہوں نے اس سے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1865
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, حَدَّثَنِي
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 490 ، ومصباح الزجاجة : 665 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/النکاح 5 ( 1087 ) ، سنن النسائی/النکاح 17 ( 3237 ) ، مسند احمد ( 4/245 ، 246 ) ، سنن الدارمی/النکاح 5 ( 2218 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1866
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا " ، فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا ، وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ ، قَالَ : فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا ، فَقَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ ، وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا ، فَتَزَوَّجْتُهَا ، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اسے دیکھ لو ، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے “ ، چنانچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا ، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا ، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی ، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا : اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کا حکم دیا ہے ، تو تم دیکھ لو ، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں ، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا ، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس عورت کو دیکھا ، اور اس سے شادی کر لی ، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1866
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن الترمذی/النکاح 5 ( 1087 ) ، سنن النسائی/النکاح 17 ( 3237 ) ، ( تحفة الأشراف : 11489 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/244 ، سنن الدارمی/النکاح 5 ( 2218 ) ( صحیح ) »