حدیث نمبر: 1860
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَبِكْرًا ، أَوْ ثَيِّبًا ؟ " ، قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا " ، قُلْتُ : كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ ، قَالَ : " فَذَاكَ إِذًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی ، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ، تو آپ نے فرمایا : ” جابر ! کیا تم نے شادی کر لی “ ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کنواری سے یا غیر کنواری سے “ ؟ میں نے کہا : غیر کنواری سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شادی کنواری سے کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے کودتے “ ؟ میں نے کہا : میری کچھ بہنیں ہیں ، تو میں ڈرا کہ کہیں کنواری لڑکی آ کر ان میں اور مجھ میں دوری کا سبب نہ بن جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے “ ۔
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ ، فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا ، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا ، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کنواری لڑکیوں سے شادی کیا کرو ، کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں اور زیادہ بچے جننے والی ہوتی ہیں ، اور تھوڑے پہ راضی رہتی ہیں “ ۔