کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نیک اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1858
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَلِجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے ، ان کے مال و دولت کی وجہ سے ، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے ، ان کے حسن و جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے ، اور ان کی دین داری کی وجہ سے ، لہٰذا تم دیندار عورت کا انتخاب کر کے کامیاب بنو ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1858
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث « صحیح البخاری/النکاح 15 ( 5090 ) ، صحیح مسلم/الرضاع 15 ( 1466 ) ، سنن ابی داود/النکاح 2 ( 2047 ) ، سنن النسائی/النکاح 13 ( 3232 ) ، ( تحفة الأشراف : 13305 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/428 ) ، سنن الدارمی/النکاح 4 ( 2216 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبيُّ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَوَّجُوا النِّسَاءَ لِحُسْنِهِنَّ ، فَعَسَى حُسْنُهُنَّ أَنْ يُرْدِيَهُنَّ ، وَلَا تَزَوَّجُوهُنَّ لِأَمْوَالِهِنَّ ، فَعَسَى أَمْوَالُهُنَّ أَنْ تُطْغِيَهُنَّ ، وَلَكِنْ تَزَوَّجُوهُنَّ عَلَى الدِّينِ ، وَلَأَمَةٌ خَرْمَاءُ سَوْدَاءُ ذَاتُ دِينٍ أَفْضَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں سے صرف ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر شادی نہ کرو ، ہو سکتا ہے حسن و جمال ہی ان کو تباہ و برباد کر دے ، اور عورتوں سے ان کے مال و دولت کو دیکھ کر شادی نہ کرو ، ہو سکتا ہے ان کے مال ان کو سرکش بنا دیں ، بلکہ ان کی دین داری کی وجہ سے ان سے شادی کرو ، ایک کان کٹی کالی لونڈی جو دیندار ہو زیادہ بہتر ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1859
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الإفريقي: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8868 ، ومصباح الزجاجة : 660 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی ضعیف ہیں ، نیزملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 1060 )