کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: بہترین عورت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1855
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا الدُّنْيَا مَتَاعٌ ، وَلَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنَ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا متاع ( سامان ) ہے ، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت سے بہتر نہیں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1855
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد الرحمٰن بن زياد بن أنعم الإفريقي ضعيف, و روي مسلم (1467): ((الدنيا متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة)) و ھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الرضاع 17 ( 1467 ) ، سنن النسائی/النکاح 15 ( 3234 ) ، ( تحفة الأشراف : 8849 ) ، مسند احمد ( 2/168 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1856
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ فِي الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ مَا نَزَلَ ، قَالُوا : فَأَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ ؟ ، قَالَ عُمَرُ : فَأَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ ، فَأَوْضَعَ عَلَى بَعِيرِهِ ، فَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا فِي أَثَرِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ ؟ ، فَقَالَ : " لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا ، وَلِسَانًا ذَاكِرًا ، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب سونے اور چاندی کے بارے میں آیت اتری تو لوگ کہنے لگے کہ اب کون سا مال ہم اپنے لیے رکھیں ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اسے تمہارے لیے معلوم کر کے کر آتا ہوں ، اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر اسے تیز دوڑایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، میں بھی آپ کے پیچھے تھا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کون سا مال رکھیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں ہر کوئی شکر کرنے والا دل ، ذکر کرنے والی زبان ، اور ایمان والی بیوی رکھے جو اس کی آخرت کے کاموں میں مدد کرے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عورت کی مدد آخرت کے کام میں یہ ہے کی آدمی اس کی وجہ سے گناہوں اور بدنظری سے بچتا ہے، اور گھر کے تمام کام عورت کر لیتی ہے مرد کو عبادت کی فرصت ملتی ہے، اگر عورت نہ ہو اور یہ کام خود کرے تو عبادت کی فرصت مشکل سے ملے گی، بعض عورتیں خود نیک اور دیندار ہوتی ہیں، ان کی صحبت کے اثر سے مرد بھی زاہد اور عابد ہو جاتا ہے، بعض عورتیں اپنے شوہر کو تہجد کی نماز کے لئے جگاتی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1856
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (3094), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2084 ، ومصباح الزجاجة : 658 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 10 ( 3094 ) ، مسند احمد ( 5/278 ، 282 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1857
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللَّهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ ، إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ ، وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ ، وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَيْهَا أَبَرَّتْهُ ، وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا ، وَمَالِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ” تقویٰ کے بعد مومن نے جو سب سے اچھی چیز حاصل کی وہ ایسی نیک بیوی ہے کہ اگر شوہر اسے حکم دے تو اسے مانے ، اور اگر اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے ، اور اگر وہ اس ( کے بھروسے ) پر قسم کھا لے تو اسے سچا کر دکھائے ، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو عورت اپنی ذات اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, علي بن يزيد وعثمان بن أبي العاتكة: ضعيفان, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4919 ، ومصباح الزجاجة : 659 ) ( ضعیف ) » ( سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے )