کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1850
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ ؟ ، قَالَ : " أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ ، وَأَنْ يَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى ، وَلَا يَضْرِبِ الْوَجْهَ ، وَلَا يُقَبِّحْ ، وَلَا يَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کھائے تو اس کو کھلائے ، جب خود پہنے تو اس کو بھی پہنائے ، اس کے چہرے پر نہ مارے ، اس کو برا بھلا نہ کہے ، اور اگر اس سے لاتعلقی اختیار کرے تو بھی اسے گھر ہی میں رکھے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کسی بات پر ناراض ہو تو اسے گھر سے دوسری جگہ نہ بھگائے، گھر ہی میں رکھے، بطور تأدیب صرف بستر الگ کر دے، اس لئے کہ اس کو دوسرے گھر میں بھیج دینے سے اس کے پریشان اور آوارہ ہونے کا ڈر ہے، اور تعلقات بننے کی بجائے مزید بگڑنے کی راہ ہموار ہونے کا خطرہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1850
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/النکاح 42 ( 2142 ) ، ( تحفة الأشراف : 11396 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/447 ، 5/3 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1851
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ الْبَارِقِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَذَكَّرَ وَوَعَظَ ، ثُمَّ قَالَ : " اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ ، إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ، إِنَّ لَكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ حَقًّا ، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا ، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ ، فَلَا يُوَطِّئَنَّ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمُ لِمَنْ تَكْرَهُونَ ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ ، أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ ، وَطَعَامِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی ، پھر فرمایا : ” عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو ، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں ، لہٰذا تم ان سے اس ( جماع ) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو ، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں ، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو ، ان کو مارو لیکن سخت مار نہ مارو ، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو ، تمہارا عورتوں پر حق ہے ، اور ان کا حق تم پر ہے ، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارا بستر ایسے شخص کو روندنے نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو ۱؎ اور وہ کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں ، جسے تم ناپسند کرتے ہو ، سنو ! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اچھی طرح ان کو کھانا اور کپڑا دو “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کسی مرد کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ اندر آئے، اور اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرے، پہلے عربوں میں یہ چیز معیوب نہیں تھی لیکن جب آیت حجاب نازل ہوئی تو اس سے منع کر دیا گیا۔
۲؎: «لمن تكرهون» میں غیر محرم مرد تو یقینی طور پر داخل ہیں، نیز وہ محرم مرد اور عورتیں بھی اس میں داخل ہیں جن کے آنے جانے کو شوہر پسند نہ کرے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1851
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الرضاع 11 ( 1163 ) ، تفسیر 10 ( 3087 ) ، ( تحفة الأشراف : 10692 ) ( حسن ) »