مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1845
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى ، فَخَلَا بِهِ عُثْمَانُ ، فَجَلَسْتُ قَرِيبًا مِنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : هَلْ لَكَ أَنْ أُزَوِّجَكَ جَارِيَةً بِكْرًا تُذَكِّرُكَ مِنْ نَفْسِكَ بَعْضَ مَا قَدْ مَضَى ؟ ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ سِوَى هَذِهِ ، أَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ فَجِئْتُ وَهُوَ يَقُولُ : لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ ، لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ` میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا ، تو عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے ، میں ان کے قریب بیٹھا تھا ، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے ؟ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے ، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا ، میں قریب آ گیا ، اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے : ” اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کر لے ، اس لیے کہ اس سے نگاہیں زیادہ نیچی رہتی ہیں ، اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے ، اور جو نان و نفقہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے ، اس لیے کہ یہ شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1845
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الصوم 10 ( 1905 ) ، النکاح 2 ( 5065 ) ، صحیح مسلم/النکاح 1 ( 1400 ) ، سنن ابی داود/النکاح 1 ( 2046 ) ، سنن الترمذی/النکاح 1 ( 1081تعلیقاً ) ، سنن النسائی/الصیام 43 ( 2241 ) ، النکاح 3 ( 3209 ) ، ( تحفة الأشراف : 9417 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/58 ، 378 ، 424 ، 425 ، 432 ) ، سنن الدارمی/النکاح 2 ( 2212 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1846
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي ، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ، وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے ، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے ، تم لوگ شادی کرو ، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر ( قیامت کے دن ) فخر کروں گا ، اور جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں ، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے ، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں نکاح کا لفظ امر کے ساتھ وارد ہوا ہے، اور امر وجوب کے لیے آتا ہے، اسی لیے اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ جس کو نان و نفقہ اور مہر وغیرہ کی قدرت ہو اس کو نکاح کرنا سنت ہے، اور اگر اس کے ساتھ گناہ میں پڑنے کا ڈر ہو تو نکاح کرنا واجب ہے، صحیحین میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا، بعض نے کہا میں ساری رات نماز پڑھوں گا سوؤں گا نہیں، بعض نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا، یہ خبر نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا حال ہے لوگوں کا ایسا ایسا کہتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں، اور افطار بھی کرتا ہوں، سوتا بھی ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، پھر جو کوئی میرے طریقے سے نفرت کرے وہ مجھ سے نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1846
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عيسي بن ميمون المدني ضعيف, و قال البوصيري: ’’ إسناده ضعيف لاتفاقھم علي ضعف عيسي ابن ميمون المديني لكن له شاھد صحيح ‘‘ و حديث البخاري (5063) و مسلم (1401) يغني عنه, و روي أبو داود: ((تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم)) (2050) و سنده حسن و روي البزار عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((يا معشر الشباب ! من استطاع منكم الطول فلينكح أو ليتزوج و إلا فعليه بالصوم فإنه له وجاء۔)), (كشف الاستار 2/ 148 ح 1398) وسنده حسن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17549 ، ومصباح الزجاجة : 654 ) ( حسن ) » ( سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث ہے ، بلکہ بعض لوگوں نے متروک الحدیث بھی کہا ہے ، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 2383 )
حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اکثر دو قوموں میں یا دو شخص میں عداوت ہوتی ہے، جب نکاح کی وجہ سے باہمی رشتہ ہو جاتا ہے تو وہ عداوت جاتی رہتی ہے، اور کبھی محبت کم ہوتی ہے تو نکاح سے زیادہ ہو جاتی ہے، اور یہی سبب ہے کہ قرابت دو طرح کی ہو گئی ہے، ایک نسبی قرابت، دوسرے سببی قرابت، اور انسان کو اپنی بیوی کے بھائی بہن سے ایسی الفت ہوتی ہے جیسے اپنے سگے بھائی بہن سے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1847
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5695 ، ومصباح الزجاجة : 655 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔