حدیث نمبر: 1821
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ أَقْنَاءَ ، أَوْ قِنْوًا ، وَبِيَدِهِ عَصًا فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِذَلِكَ ، يُدَقْدِقُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ ، وَيَقُولُ : " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا ، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے ، اور ایک شخص نے کھجور کے کچھ خوشے مسجد میں لٹکا دئیے تھے ، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوشہ میں اس چھڑی سے کھٹ کھٹ مارتے جاتے ، اور فرماتے : ” اگر یہ زکاۃ دینے والا چاہتا تو اس سے بہتر زکاۃ دیتا ، یہ زکاۃ والا قیامت کے دن خراب ہی کھجور کھائے گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جیسا دیا ویسا پائے گا، اللہ تعالی غنی و بے پرواہ ہے، اس کے نام پر تو بہت عمدہ مال دینا چاہئے، وہ نیت کو دیکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 1822
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فِي قَوْلِهِ سُبْحَانَهُ " وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ ، كَانَتْ الْأَنْصَارُ تُخْرِجُ إِذَا كَانَ جِدَادُ النَّخْلِ مِنْ حِيطَانِهَا أَقْنَاءَ الْبُسْرِ ، فَيُعَلِّقُونَهُ عَلَى حَبْلٍ بَيْنَ أُسْطُوَانَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ ، فَيَعْمِدُ أَحَدُهُمْ فَيُدْخِلُ قِنْوًا فِيهِ الْحَشَفُ ، يَظُنُّ أَنَّهُ جَائِزٌ فِي كَثْرَةِ مَا يُوضَعُ مِنَ الْأَقْنَاءِ ، فَنَزَلَ فِيمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 ، يَقُولُ : لَا تَعْمِدُوا لِلْحَشَفِ مِنْهُ تُنْفِقُونَ ، وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ ، يَقُولُ : لَوْ أُهْدِيَ لَكُمْ مَا قَبِلْتُمُوهُ إِلَّا عَلَى اسْتِحْيَاءٍ مِنْ صَاحِبِهِ غَيْظًا ، أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَا لَمْ يَكُنْ لَكُمْ فِيهِ حَاجَةٌ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ صَدَقَاتِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` آیت کریمہ : «ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ( سورة التوبة : 267 ) انصار کے بارے میں نازل ہوئی ، جب باغات سے کھجور توڑنے کا وقت آتا تو وہ اپنے باغات سے کھجور کے چند خوشے ( صدقے کے طور پر ) نکالتے ، اور مسجد نبوی میں دونوں ستونوں کے درمیان رسی باندھ کر لٹکا دیتے ، پھر فقراء مہاجرین اس میں سے کھاتے ، انصار میں سے کوئی یہ کرتا کہ ان خوشوں میں خراب کھجور کا خوشہ شامل کر دیتا ، اور یہ سمجھتا کہ بہت سارے خوشوں میں ایک خراب خوشہ رکھ دینا جائز ہے ، تو انہیں لوگوں کے سلسلہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ” قصد نہ کرو خراب کا اس میں سے کہ اسے خرچ کرو “ اور تم اسے خود ہرگز لینے والے نہیں ہو ، الا یہ کہ چشم پوشی سے کام لو ، اگر تمہیں کوئی ایسے خراب مال سے تحفہ بھیجے تو تم کبھی بھی اس کو قبول نہ کرو گے مگر شرم کی وجہ سے ، اور دل میں غصہ ہو کر کہ اس نے تمہارے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے کام کی نہیں ہے ، اور تم جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بے نیاز ہے ۔