مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: معتکف بیمار کی عیادت کرے اور جنازہ میں شریک ہو۔
حدیث نمبر: 1776
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة ، قَالَتْ : إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ ، قَالَتْ : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں ( اعتکاف کی حالت میں ) گھر میں ضرورت ( قضائے حاجت ) کے لیے جاتی تھی ، اور اس میں کوئی بیمار ہوتا تو میں اس کی بیمار پرسی چلتے چلتے کر لیتی تھی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ضرورت ہی کے تحت گھر میں جاتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1776
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح م ولـ خ منه المرفوع , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج « صحیح البخاری/ الإعتکاف 3 ( 2029 ) ، صحیح مسلم/الخیض 3 ( 297 ) ، سنن ابی داود/الصوم 79 ( 2468 ) ، سنن الترمذی/الصوم 80 ( 805 ) ، ( تحفة الأشراف : 16579 ، 17921 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/18 ، 104 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1777
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيَّاجُ الْخُرَاسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْخَالِقِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُعْتَكِفُ يَتْبَعُ الْجِنَازَةَ ، وَيَعُودُ الْمَرِيضَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معتکف جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے ، اور بیمار کی عیادت کر سکتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1777
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: موضوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده موضوع, عنبسة: متهم بوضع الحديث, وعبد الخالق: مجهول (تقريب:3779), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 443
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 982 ، ومصباح الزجاجة : 636 ) ( موضوع ) » ( سند میں عبدالخالق ، عنبسہ اور ہیاج سب ضعیف ہیں ، نیز اس کے خلاف ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ متفق علیہ حدیث ہے کہ آپ ﷺ اعتکاف کی حالت میں صرف ضرورت کے وقت ہی نکلتے تھے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 4679 )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔