حدیث نمبر: 1760
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ /a> ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَفْدُنَا الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْلَامِ ثَقِيفٍ ، قَالَ : وَقَدِمُوا عَلَيْهِ فِي رَمَضَانَ ، فَضَرَبَ عَلَيْهِمْ قُبَّةً فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا صَامُوا مَا بَقِيَ عَلَيْهِمْ مِنَ الشَّهْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطیہ بن سفیان کہتے ہیں کہ` ہمارے اس وفد نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تھا ، ہم سے بنو ثقیف کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کیا کہ بنو ثقیف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا ، جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، تو رمضان کے جو دن باقی رہ گئے تھے ، ان میں انہوں نے روزے رکھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس پر اتفاق ہے کہ کافر اگر رمضان میں مسلمان ہو تو جتنے دن رمضان کے باقی ہوں ان میں روزے رکھے، لیکن اگلے روزوں کی قضا اس پر لازم نہیں ہے۔