مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جو رمضان میں اسلام لائے اس کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1760
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ /a> ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَفْدُنَا الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْلَامِ ثَقِيفٍ ، قَالَ : وَقَدِمُوا عَلَيْهِ فِي رَمَضَانَ ، فَضَرَبَ عَلَيْهِمْ قُبَّةً فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا صَامُوا مَا بَقِيَ عَلَيْهِمْ مِنَ الشَّهْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطیہ بن سفیان کہتے ہیں کہ` ہمارے اس وفد نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تھا ، ہم سے بنو ثقیف کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کیا کہ بنو ثقیف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا ، جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، تو رمضان کے جو دن باقی رہ گئے تھے ، ان میں انہوں نے روزے رکھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس پر اتفاق ہے کہ کافر اگر رمضان میں مسلمان ہو تو جتنے دن رمضان کے باقی ہوں ان میں روزے رکھے، لیکن اگلے روزوں کی قضا اس پر لازم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيام / حدیث: 1760
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عيسي بن عبد اللّٰه: مقبول (تقريب: 5304) أي مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده فيما أعلم, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15644 ، ومصباح الزجاجة : 632 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، اور عیسیٰ بن عبد اللہ مجہول ہیں )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔